قرآن کریم کی سورہ المائدہ (آیت 44) میں ارشاد بابت الٰہی ہے:
انٹرنیٹ پر کئی ویب سائٹس پی ڈی ایف فارمیٹ میں اردو بائبل (عہد نامہ قدیم) فراہم کرتی ہیں۔
قرآنِ پاک میں تورات کو یا "التوراة" کہہ کر پکارا گیا ہے اور اسے چار بڑی آسمانی کتابوں میں شمار کیا گیا ہے (باقی تین: زبور، انجیل، اور قرآنِ مجید)۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:
تورات دنیا کی قدیم ترین اور اہم ترین الہامی کتابوں میں سے ایک ہے۔ عبرانی زبان میں نازل ہونے والی یہ کتاب بنی اسرائیل کے لیے رشد و ہدایت کا ذریعہ بنی۔ اردو زبان بولنے اور سمجھنے والوں کے لیے تورات کے تاریخی، مروجہ اور اسلامی تصورات کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے تاکہ بین المذاہب ہم آہنگی اور اسلامی عقائد کے تسلسل کو واضح طور پر سمجھا جا سکے۔
اسلام میں تورات کو ایک آسمانی کتاب ہونے کا مقام حاصل ہے۔ قرآن مجید میں اسے "تورات" (Tawrat) کے نام سے پکارا گیا ہے اور اسے اللہ کی طرف سے نازل کردہ کتابوں میں شمار کیا گیا ہے۔ قرآن میں ہے:
تورات ایک مقدس الہامی کتاب ہے جس کا احترام تمام ابراہیمی مذاہب میں پایا جاتا ہے۔ اردو زبان میں اس کے مطالعے کا مقصد بین المذاہب مکالمے کو فروغ دینا اور الہامی کتابوں کے تاریخی سفر کو سمجھنا ہے۔ مسلم نقطہ نظر سے، اصل تورات خدا کا کلام تھی، اور موجودہ تورات کا مطالعہ کرتے وقت قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کی تصدیق یا تردید کی جاتی ہے۔
حضرت آدم سے لے کر حضرت موسیٰ تک کے واقعات، حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت یوسف وغیرہ کے قصے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے آخری خطبات اور قوانین کا اعادہ۔ اسلام اور تورات: ایک موازنہ
حضرت نوح، حضرت ابراہیم اور حضرت لوط علیہم السلام کے واقعات دونوں جگہ موجود ہیں۔